وکیل کے انتخاب میں احتیاطیں
وکیل کے انتخاب میں احتیاطیں
تم فرمائو کیا برابر ہیں، جاننے والے اور نہ جاننے والے، نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں سورۃ ۳۹ الزمر آیت ۹
عام طور پر لوگ وکیل کے پا س کسی ریفرنس یا کسی تعلق کی وجہ سے جاتے ہیں اور یہیں سے ہی خرابی کی ابتداء ہو جاتی ہے۔تعلق واسطے کو بیچ میں ڈالنے کا مقصد اکثر و بیشتر فیس میں رعائت ہوتا ہے۔ اور یہ مقصد کسی حد تک اس طرح پورا بھی ہو جاتا ہے مگر زیادہ تر لوگ فیس میں رعائت حاصل کرتے کرتے مقدمے کا بیڑا غرق کروا بیٹھتے ہیں۔کوشش کریں کہ وکیل کو پوری فیس دیں، وکیل کے پاس بغیر کوئی سفارش لیے جائیں کیونکہ اکثر سفارش کرنے والے ٹائوٹ ہوتے ہیں اور وہ اپنے فائدے کیلئے آپ کا نقصان کر دیتے ہیں وکیل سے فیس میں سے حصہ وصول کرتے ہیں نتیجتاً کم فیس کی وجہ سے وکیل پوری دلجمعی سے کام نہیں کرتا۔ وکیل سے مشورہ کرنے کیلئے کسی کو ساتھ لے جانا اگر ضروری سمجھیں تو پھر کسی جونئیر وکیل کو ہی ساتھ لے کے جائیں کم از کم اسے یہ تو پتا ہو گا کہ جو مشورہ آپ کو دیا جا رہا ہے وہ آپ کیلئے کتنا مفید ہے۔ کیس چاہے کروانا ہو یا نہ کروانا ہو مشورہ فیس ادا کر کے وکیل سے مشورہ لیں نتیجتاً آپ کو یقیناً بہتر مشورہ ملے گا۔
ایک وکیل عام طور پر تمام ملکی قانون کے حوالے سے مہارت نہیں رکھتا اور لامحالہ ہر طرح کے مقدمات اچھے طریقے سے نہیں لڑ سکتا۔ اس لئے وکیل کا انتخاب ہمیشہ اپنے مقدمے کی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے کریں یعنی فوجداری، سول، ٹیکس، ملازمت، ریونیووغیرہ مطلب یہ کہ اپنے مقدمے کے حوالے سے ماہر وکیل منتخب کریں۔ کوئی بھی وکیل محنت کرے تو کسی بھی قسم کا کیس لڑ سکتا ہے لیکن پھر بھی وہ متعلقہ شعبہ میں ماہر وکیل جتنا اچھا نتیجہ نہیں دے سکتا۔ایک اچھے وکیل میں چار خوبیوں کا ہونے ضروری ہے ۔ قابل، محنتی، ذمہ داراور سب سے اہم خوبی وکیل کا دیانتدار ہونا۔انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ خوبیاں بہت ہی کم لوگوں میں پائی جاتی ہیں اور سب سے بڑی خرابی یعنی بددیانتی(دیگر شعبوں کی طرح) کچہری میں بھی پائی جاتی ہے
تو یہ آنکھیں نہیں اندھی ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں سورۃ ۲۲الحج آیت ۴۶
قیامت کے دن نہ تو ظالموں کے عذرقبول ہوں گے اور نہ ان کی توبہ قبول ہو گی۔ سورۃ الروم آیت ۵۷
وکیل کا انتخاب کرتے وقت بددیانت وکیل سے بچ نکلنا بھی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ یعنی وکیل منتخب کرتے ہوئے اس بات پر توجہ رہنی چاہیے کہ آپ کسی بددیانت شخص کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔ ذمہ دار اور دیانتدار وکیل کے پیشِ نظر ہر لمحہ کلائنٹ کا مفاد ہوتا ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ کم سے کم وقت میں کلائنٹ کے مسئلے کو حل کرے اور ضروری نہیں کہ اس مقصد کے حصول کیلئے ہر حال میں معاملے کو عدالت میں ہی لے جایا جائے۔ اگر کوشش کی جائے تو کئی دفعہ مسائل عدالت سے باہر بھی حل ہو سکتے۔قابل وکیل آپ کو ملک کی ہر کچہری میں مل جائیں گے گو ان کی تعداد بہت ہی کم ہے۔کوشش کریں کہ نامور و کیل کی بجائے کم شہرت والے محنتی وکیل کو منتخب کریں کیونکہ نامور وکیلوں کے پاس کام کا رش ہوتا ہے اور وہ تمام مقدمات پر مطلوبہ توجہ نہیں دے سکتے۔اور اگر توجہ دے بھی لیں تو (جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے) زیادہ کام کی وجہ سے فیصلے میں تاخیر ضرور کروا دیتے ہیں۔پھر یہ بات بھی ہے کہ ایک کم شہرت والا وکیل اگر محنتی ہے تو انسان نماز روزے سے نہیں بلکہ معاملات سے پہچانا جاتا ہے
یقیناً زیادہ مستعدی سے کام کرے گا جس سے زیادہ اچھا رزلٹ ملنے کی امید کی جا سکتی ہے۔یاد رکھیں کہ پہلے درجے کی عدالتیں کیس کی سماعت کرتی ہیں، شہادت قلمبند کرتی ہیں اور پھر اس شہادت کی روشنی میں کیس کا فیصلہ کرتی ہیں، ان عدالتوں کو قانونی زبان میں ٹرائل کورٹ کہا جاتا ہے اور ان میں مجسٹریٹ، سول جج اور سیشن جج شامل ہیں، جب کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو عدالتِ اپیل کہا جاتا ہے۔ اگر فیصلہ کرنے والی عدالت مجسٹریٹ یا سول جج کی ہو تو اپیل کی سماعت سیشن جج کی عدالت میں ہوتی ہے۔ اگر نچلی عدالت میں کیس اچھی طرح سے نہ لڑا گیا ہو تو عدالتِ اپیل میں پہنچ کر بھی اکثر کوئی فائدہ نہیں ملتا۔یہ بات یہاں پر بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ نچلی عدالت میں کم قابل وکیل سے گذارہ کرلیتے ہیں۔ اور اعلٰی عدالت میں اگر ضرورت پڑی تو زیادہ قابل وکیل کو لے لیں گے اور یوں مقدمہ کو بنیاد سے ہی کمزور یا خراب کروا لیتے ہیں۔کیوں کہ نچلی عدالتوں میں کیس چلنے کے دوران جو خامیاں اور کوتاہیاں رہ جاتی ہیں ان کے نتائج بعد میں ہر مرحلہ پر بھگتنے پڑتے ہیں۔ اس بات کو اس طرح سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ مریض کا آپریشن کسی عطائی سے کرواکے خرابی کی صورت میں سرجن ڈھونڈنا شروع کر دیا جائے۔بقولِ شاعر
خشتِ اول چوں نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج
یعنی پہلی اینٹ اگر ٹیڑھی رکھی جائے گی تو آسمان تک دیوار ٹیڑھی ہی جائے گی۔
تم فرمائو کیا برابر ہیں، جاننے والے اور نہ جاننے والے، نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں سورۃ ۳۹ الزمر آیت ۹
عام طور پر لوگ وکیل کے پا س کسی ریفرنس یا کسی تعلق کی وجہ سے جاتے ہیں اور یہیں سے ہی خرابی کی ابتداء ہو جاتی ہے۔تعلق واسطے کو بیچ میں ڈالنے کا مقصد اکثر و بیشتر فیس میں رعائت ہوتا ہے۔ اور یہ مقصد کسی حد تک اس طرح پورا بھی ہو جاتا ہے مگر زیادہ تر لوگ فیس میں رعائت حاصل کرتے کرتے مقدمے کا بیڑا غرق کروا بیٹھتے ہیں۔کوشش کریں کہ وکیل کو پوری فیس دیں، وکیل کے پاس بغیر کوئی سفارش لیے جائیں کیونکہ اکثر سفارش کرنے والے ٹائوٹ ہوتے ہیں اور وہ اپنے فائدے کیلئے آپ کا نقصان کر دیتے ہیں وکیل سے فیس میں سے حصہ وصول کرتے ہیں نتیجتاً کم فیس کی وجہ سے وکیل پوری دلجمعی سے کام نہیں کرتا۔ وکیل سے مشورہ کرنے کیلئے کسی کو ساتھ لے جانا اگر ضروری سمجھیں تو پھر کسی جونئیر وکیل کو ہی ساتھ لے کے جائیں کم از کم اسے یہ تو پتا ہو گا کہ جو مشورہ آپ کو دیا جا رہا ہے وہ آپ کیلئے کتنا مفید ہے۔ کیس چاہے کروانا ہو یا نہ کروانا ہو مشورہ فیس ادا کر کے وکیل سے مشورہ لیں نتیجتاً آپ کو یقیناً بہتر مشورہ ملے گا۔
ایک وکیل عام طور پر تمام ملکی قانون کے حوالے سے مہارت نہیں رکھتا اور لامحالہ ہر طرح کے مقدمات اچھے طریقے سے نہیں لڑ سکتا۔ اس لئے وکیل کا انتخاب ہمیشہ اپنے مقدمے کی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے کریں یعنی فوجداری، سول، ٹیکس، ملازمت، ریونیووغیرہ مطلب یہ کہ اپنے مقدمے کے حوالے سے ماہر وکیل منتخب کریں۔ کوئی بھی وکیل محنت کرے تو کسی بھی قسم کا کیس لڑ سکتا ہے لیکن پھر بھی وہ متعلقہ شعبہ میں ماہر وکیل جتنا اچھا نتیجہ نہیں دے سکتا۔ایک اچھے وکیل میں چار خوبیوں کا ہونے ضروری ہے ۔ قابل، محنتی، ذمہ داراور سب سے اہم خوبی وکیل کا دیانتدار ہونا۔انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ خوبیاں بہت ہی کم لوگوں میں پائی جاتی ہیں اور سب سے بڑی خرابی یعنی بددیانتی(دیگر شعبوں کی طرح) کچہری میں بھی پائی جاتی ہے
تو یہ آنکھیں نہیں اندھی ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں سورۃ ۲۲الحج آیت ۴۶
قیامت کے دن نہ تو ظالموں کے عذرقبول ہوں گے اور نہ ان کی توبہ قبول ہو گی۔ سورۃ الروم آیت ۵۷
وکیل کا انتخاب کرتے وقت بددیانت وکیل سے بچ نکلنا بھی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ یعنی وکیل منتخب کرتے ہوئے اس بات پر توجہ رہنی چاہیے کہ آپ کسی بددیانت شخص کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔ ذمہ دار اور دیانتدار وکیل کے پیشِ نظر ہر لمحہ کلائنٹ کا مفاد ہوتا ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ کم سے کم وقت میں کلائنٹ کے مسئلے کو حل کرے اور ضروری نہیں کہ اس مقصد کے حصول کیلئے ہر حال میں معاملے کو عدالت میں ہی لے جایا جائے۔ اگر کوشش کی جائے تو کئی دفعہ مسائل عدالت سے باہر بھی حل ہو سکتے۔قابل وکیل آپ کو ملک کی ہر کچہری میں مل جائیں گے گو ان کی تعداد بہت ہی کم ہے۔کوشش کریں کہ نامور و کیل کی بجائے کم شہرت والے محنتی وکیل کو منتخب کریں کیونکہ نامور وکیلوں کے پاس کام کا رش ہوتا ہے اور وہ تمام مقدمات پر مطلوبہ توجہ نہیں دے سکتے۔اور اگر توجہ دے بھی لیں تو (جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے) زیادہ کام کی وجہ سے فیصلے میں تاخیر ضرور کروا دیتے ہیں۔پھر یہ بات بھی ہے کہ ایک کم شہرت والا وکیل اگر محنتی ہے تو انسان نماز روزے سے نہیں بلکہ معاملات سے پہچانا جاتا ہے
یقیناً زیادہ مستعدی سے کام کرے گا جس سے زیادہ اچھا رزلٹ ملنے کی امید کی جا سکتی ہے۔یاد رکھیں کہ پہلے درجے کی عدالتیں کیس کی سماعت کرتی ہیں، شہادت قلمبند کرتی ہیں اور پھر اس شہادت کی روشنی میں کیس کا فیصلہ کرتی ہیں، ان عدالتوں کو قانونی زبان میں ٹرائل کورٹ کہا جاتا ہے اور ان میں مجسٹریٹ، سول جج اور سیشن جج شامل ہیں، جب کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو عدالتِ اپیل کہا جاتا ہے۔ اگر فیصلہ کرنے والی عدالت مجسٹریٹ یا سول جج کی ہو تو اپیل کی سماعت سیشن جج کی عدالت میں ہوتی ہے۔ اگر نچلی عدالت میں کیس اچھی طرح سے نہ لڑا گیا ہو تو عدالتِ اپیل میں پہنچ کر بھی اکثر کوئی فائدہ نہیں ملتا۔یہ بات یہاں پر بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ نچلی عدالت میں کم قابل وکیل سے گذارہ کرلیتے ہیں۔ اور اعلٰی عدالت میں اگر ضرورت پڑی تو زیادہ قابل وکیل کو لے لیں گے اور یوں مقدمہ کو بنیاد سے ہی کمزور یا خراب کروا لیتے ہیں۔کیوں کہ نچلی عدالتوں میں کیس چلنے کے دوران جو خامیاں اور کوتاہیاں رہ جاتی ہیں ان کے نتائج بعد میں ہر مرحلہ پر بھگتنے پڑتے ہیں۔ اس بات کو اس طرح سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ مریض کا آپریشن کسی عطائی سے کرواکے خرابی کی صورت میں سرجن ڈھونڈنا شروع کر دیا جائے۔بقولِ شاعر
خشتِ اول چوں نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج
یعنی پہلی اینٹ اگر ٹیڑھی رکھی جائے گی تو آسمان تک دیوار ٹیڑھی ہی جائے گی۔
ایمان والے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور کافر شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں، تو شیطان کے دوستوں سے لڑو بے شک شیطان کا دائو کمزور ہے سورۃ ۴ النساء آیت ۷۶
Comments
Post a Comment