عدالتی عملہ کی چالبازیاں اور لوٹ مار
اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کروجس میں کوئی باپ اپنے بچے کے کام نہ آئے گا اور نہ کوئی قابل بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے گا۔سورۃ ۳۱ لقمٰن آیت۳۳
عدالتی عملہ کی چالبازیاں اور لوٹ مار
عدالتی سٹاف کی لوٹ مار کو سمجھنے کیلئے اِن کے فرائض کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک جج کے ساتھ چھ لوگ کام کرتے ہیں، ریڈر، سٹینو گرافر، نائب کورٹ ، سرکاری وکیل، نائب قاصد اور اہلمد۔ ان افراد کے ذمہ مختلف طرح کے فرائض ہوتے ہیں۔ سٹینو گرافر اور ریڈر جج کے دائیں بائیں بیٹھتے ہیں، ریڈر عدالت میں زیرِ سماعت مقدمات کی لسٹ کے مطابق نائب قاصد کے ذریعے کیس کی آواز دلواتا ہے اور جس کیس کی آواز ہو اس کیس کی فائل جج صاحب کو دیتا ہے۔ (بعض کیسوں میں ریڈر جج صاحب کی ہدائت کے مطابق تاریخ ڈال کر فریقین کو آگاہ کر دیتا ہے)۔جج صاحب فریقین کو سن کر یا فریقین کی عدم موجودگی کی صورت حرام کا ایک لقمہ چھوڑنا دو سو رکعت نفل پڑھنے سے زیادہ پسندیدہ ہے
میں بھی جو حکم مناسب سمجھیں سٹینو کو لکھوا دیتے ہیںجو اسے ٹائپ کر دیتا ہے۔ اور جج صاحب اس پر دستخط کر دیتے ہیں۔ سول مقدمات کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل کا کوئی کردار نہیں ہوتا (کئی دفع دیکھا ہے کہ ماہرین سول مقدمات میں بھی سرکاری وکیل کے نام پر رشوت لے کر کھا جاتے ہیں) فوجداری مقدمات میں سرکاری وکیل استغاثہ کی طرف سے پیش ہوتا ہے اور جرم ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سرکاری وکیل کی طرح نائب کورٹ بھی صرف فوجداری مقدمات کی سماعت کے دوران عدالت میں کام کرتا ہے۔ نائب کورٹ ایک کانسٹیبل (سپاہی) ہوتا ہے جو تھانہ جات اور پولیس ملازمین سے متعلق عدالت کے احکامات بجا لاتا ہے یعنی تھانہ سے زیرِ سماعت مقدمات کا ریکارڈ منگوانا، محکمہ پولیس سے کوئی دستاویز منگوانا، کسی پولیس ملازم تک عدالت کا حکم پہنچانا، فوجداری مقدمات سے متعلق فریقین اور گواہان تک بذریعہ متعلقہ تھانہ عدالت کے احکامات پہنچانا۔عدالت کے حکم پر کسی شخص کو حوالات لے جانا وغیرہ۔ عدالتی حکمنامے اہلمد تیار کر کے جج صاحب کے دستخط کروا کے نائب کورٹ کو دیتا ہے۔ اہلمد کو ہم عدالتی کلرک بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کے پاس اپنی عدالت کے تمام کیسوں کی فائلیں ہوتی ہیں۔ اہلمد کا کام روز کے زیرِ سماعت مقدمات کی لسٹ ایک دن قبل تیار کرنا۔ نئے کیسوں کی فائلوں کو رجسٹر میں درج کر کے ریڈر کے سپرد کرنا، تمام زیر سماعت مقدمات کی فائلوں کو تاریخوں کے حساب سے ترتیب دینا تا کہ مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش کرنے میں دقت نہ ہو، تمام کیسوں کے آرڈر پڑھ کر متعلقہ اشخاص یا محکموں کے نام عدالتی حکمنامے تحریر کر کے جج صاحب سے دستخط کروا کر بھجوانا۔ ضمانت ناموں کا اندراج، اور ضامنوں کو عدالت میں پیش کرنا،
عدالتی عملہ کوئی حکم جاری نہیں کر سکتا ، اور نہ ہی جج کو کسی معاملے میں مجبور یا قائل کر سکتا ہے۔فریقینِ مقدمہ اور ان کے سپورٹران کیلئے عدالتی عملہ اور ان کے کام کا طریقہ سمجھنا بھی ضروری ہے تا کہ ان کی چالاکیوں سے بچا جا سکے۔ متذکرہ بالا تمام ملازمین وہی کام کرتے ہیں جو ان کے ذمے لگائے جاتے ہیں اس سے زیادہ وہ عدالتی فیصلوں میں کسی طرح کا کوئی عمل دخل نہیں رکھتے۔ عام لوگوں کے ذہن میں ہوتا ہے کہ یہ ملازمین چونکہ جج صاحب کے ساتھ کام کرتے ہیں لہٰذایہ جج کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ لوگوں کی اسی غلط فہمی کا یہ ملازمین ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور ججوں کے نام پر لوٹ مار شروع کر دیتے ہیں۔
میں بھی جو حکم مناسب سمجھیں سٹینو کو لکھوا دیتے ہیںجو اسے ٹائپ کر دیتا ہے۔ اور جج صاحب اس پر دستخط کر دیتے ہیں۔ سول مقدمات کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل کا کوئی کردار نہیں ہوتا (کئی دفع دیکھا ہے کہ ماہرین سول مقدمات میں بھی سرکاری وکیل کے نام پر رشوت لے کر کھا جاتے ہیں) فوجداری مقدمات میں سرکاری وکیل استغاثہ کی طرف سے پیش ہوتا ہے اور جرم ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سرکاری وکیل کی طرح نائب کورٹ بھی صرف فوجداری مقدمات کی سماعت کے دوران عدالت میں کام کرتا ہے۔ نائب کورٹ ایک کانسٹیبل (سپاہی) ہوتا ہے جو تھانہ جات اور پولیس ملازمین سے متعلق عدالت کے احکامات بجا لاتا ہے یعنی تھانہ سے زیرِ سماعت مقدمات کا ریکارڈ منگوانا، محکمہ پولیس سے کوئی دستاویز منگوانا، کسی پولیس ملازم تک عدالت کا حکم پہنچانا، فوجداری مقدمات سے متعلق فریقین اور گواہان تک بذریعہ متعلقہ تھانہ عدالت کے احکامات پہنچانا۔عدالت کے حکم پر کسی شخص کو حوالات لے جانا وغیرہ۔ عدالتی حکمنامے اہلمد تیار کر کے جج صاحب کے دستخط کروا کے نائب کورٹ کو دیتا ہے۔ اہلمد کو ہم عدالتی کلرک بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کے پاس اپنی عدالت کے تمام کیسوں کی فائلیں ہوتی ہیں۔ اہلمد کا کام روز کے زیرِ سماعت مقدمات کی لسٹ ایک دن قبل تیار کرنا۔ نئے کیسوں کی فائلوں کو رجسٹر میں درج کر کے ریڈر کے سپرد کرنا، تمام زیر سماعت مقدمات کی فائلوں کو تاریخوں کے حساب سے ترتیب دینا تا کہ مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش کرنے میں دقت نہ ہو، تمام کیسوں کے آرڈر پڑھ کر متعلقہ اشخاص یا محکموں کے نام عدالتی حکمنامے تحریر کر کے جج صاحب سے دستخط کروا کر بھجوانا۔ ضمانت ناموں کا اندراج، اور ضامنوں کو عدالت میں پیش کرنا،
عدالتی عملہ کوئی حکم جاری نہیں کر سکتا ، اور نہ ہی جج کو کسی معاملے میں مجبور یا قائل کر سکتا ہے۔فریقینِ مقدمہ اور ان کے سپورٹران کیلئے عدالتی عملہ اور ان کے کام کا طریقہ سمجھنا بھی ضروری ہے تا کہ ان کی چالاکیوں سے بچا جا سکے۔ متذکرہ بالا تمام ملازمین وہی کام کرتے ہیں جو ان کے ذمے لگائے جاتے ہیں اس سے زیادہ وہ عدالتی فیصلوں میں کسی طرح کا کوئی عمل دخل نہیں رکھتے۔ عام لوگوں کے ذہن میں ہوتا ہے کہ یہ ملازمین چونکہ جج صاحب کے ساتھ کام کرتے ہیں لہٰذایہ جج کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ لوگوں کی اسی غلط فہمی کا یہ ملازمین ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور ججوں کے نام پر لوٹ مار شروع کر دیتے ہیں۔
Comments
Post a Comment